حصول روزگار کا مجرب جفری عمل
جب ہم اس کائنات میں بسنے والی مخلتف مخلوقات کے طرز حیات کو دیکھتے ہیں تو ایک ہی بات نمایاں طور پر سامنے آتی ہے کہ ہر پہلی نسل اپنے سے اگلی نسل کی پرورش کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہے۔ وہ جانور ہوں، پھول پیڑ ہوں یا انسان۔ انسان ہمیشہ سے اس کرہ ارض پر قدرت کی سب سے محبوب مخلوق نظر آتا ہے۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ اس خطہ زمین پر موجود ہر شے صرف انسانی مخلوق کی نازبرداری کے لیے بنائی گئی۔ سورج، چاند اور ستاروں کی روشنی کے الگ الگ پیمانے انسان کے مزاج کے مطابق خلق کئے گیے۔ ذرا تدبر کیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر شے کو صرف اس لیے بنایا گیا ہے کہ قدرت کی محبوب مخلوق انسان ان چیزوں سے استفادہ حاصل کر کے اپنی زندگی کو بہتر سے بہترین کی طرف لے جاسکے۔ لیکن قدرت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ جہاں حضرت انسان کی دلداری کے لیے اتنا کچھ کیا جا رہا ہے وہیں پر قدرت انسان کو جا بجا آزمائیشوں میں مبتلا کرتی رہتی ہے۔ قدرت نے اپنے محبوب انسان کے لیے بھی وہی نظام حیات مروج کیا ہے جو دیگر مخلوقات کے لیے ہے کہ اپنے بعد آنے والی نسل کو بہتر مواقع میسر کرے جن سے ان کو زندگی کی منازل طے کرنے میں آسانی رہے...